(مطلقہ کو دوسری شادی کےلئے عدت گزانی ہوگی؟)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ ہندہ کی شادی ہو ئی پھر طلاق ہوگئی تو ہندہ کی شادی اگر دوسری کی جائے تو کیا عدت گزارنی ہوگی؟ مدلل جواب دیں قران و حدیث کے حوالے سے
المستفتی۔ تبارک حسین
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر خلوت صحیحہ (یعنی ایسی تنہائی کہ شوہر وبیوی چاہیں تو ہمبستری کرسکیں ایسی حالت) نہیں ہوئی ہے تو دوسری شادی کے لئے عدت نہیں ہے لیکن اگر خلوت صحیحہ پائی گئی ہے تو اب ہندہ پر عدت ہے یعنی دوسری شادی سے پہلے عدت گزارنا ضروری ہے۔ عدت مکمل ہونے سے پہلے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوْءٍ "اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، (سورۃ البقرۃ: آیت 228)
لیکن اگر حیض نہ آتاہو یعنی کم عمر ہو یا سن ایاس کو پہونچ چکی ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہوتو اس عدت وضع حمل (بچہ پیداہونا)ہے جیساکہ ارشاد ربانی ہے:وَ الِّٰٓیۡٔ یَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشۡہُرٍ ۙ وَّ الِّٰٓیۡٔ لَمۡ یَحِضۡنَ ؕ وَ اُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ " اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی اُمید نہ رہی اگر تمہیں کچھ شک ہو تو انکی عدت تین مہینے ہے اور انکی جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو. اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں.(سورۃ الطلاق: آیت 4)واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار
ایک تبصرہ شائع کریں